Home / General / ‫لی جن یوان: “دنیا کی توجہ اب چین پر۔ ٹیئنز آ گیا ہے!”

‫لی جن یوان: “دنیا کی توجہ اب چین پر۔ ٹیئنز آ گیا ہے!”

بیجنگ، چین، 16 اپریل 2018ء/سنہوا-ایشیانیٹ/– چین کا نامی گرامی بین الاقوامی اقتصادی اجلاس دی باؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس 2018ء 11 اپریل کو باضابطہ طور پر اختتام کو پہنچا۔ “زیادہ ترقی یافتہ دنیا کے لیے ایک کھلا اور جدت طراز ایشیا” کے موضوع پر چیئرمین ٹیئنز گروپ لی جن یوان کو فورم میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جہاں لی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمی معیشت کی نظریں چین پر ہیں، اور چین بھی دنیا پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ادارے کو ایک کھلے پلیٹ فارم تک لے آیا ہے تاکہ وہ چین پر ارتکاز کے لیے تمام صنعتوں کی توجہ حاصل کرے۔

لی جن یوان نے کہا کہ ہائنان کی مثال لے لیں، “اگر ہائنان ماحولیاتی تحفظ اور صحت کی سیاحت کا منصوبہ حاصل کر سکے، تو ہائنان مستقبل میں معجزات رونما کر سکتا ہے۔ ٹیئنز کسی بھی موقع کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور یہ اس کی تیاری کو تیز تر کرنے کے رحجان کا بھی فائدہ اٹھائے گا۔” ٹیئنز عرصہ دراز سے عالمگیریت کی صف اول میں ہے۔ اس کا سالوں پر محیط مجموعی تجربہ اداروں کی طویل المیعاد عالمی ترقی پر اثر انداز ہوگا۔” اس منصوبے کے جواب میں ہم اداروں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ عالمی سطح پر جانے کے لیے موقع کا فائدہ اٹھائیں۔ یہ عملی طور پر دنیا کا سامنا کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔”

لی جن یوان نے کہا کہ “ٹیئنز ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ٹیئنز کی عالمگیریت کا آغاز کرنے کے لیے ایک انجن کی طرح ہے۔”

لی جن یوان نے “صرف دعوت نامے پر” ہونے والے ذیلی فورمز میں ایک غیر معمولی کاروباری منتظم کی حیثیت سے باؤ فورم برائے ایشیا 2018ء میں شرکت کی: 9 اپریل کو انہوں نے 21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ آئی لینڈ اکانمی کوآپریشن، آسیان-چین گورنرز/میئرز راؤنڈ ٹیبل اور دنیا کے سرفہرست کاروباری رہنماؤں کے ساتھ کاروباری منتظم اور کاروباری انتظام کی از سر نو تعریف کرنے کے سیشنز میں شرکت کی۔ لی 10 اپریل کو چینی وفد کے لیے منتخب کیے گئے دس کاروباری منتظمین میں سے ایک کی حیثیت سے جاپان-چین سی ای او ڈائیلاگ میں بھی مدعو تھے۔ لی نے ٹیئنز کی عالمی حکمت عملی اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پائے گئے کامیاب تجربات کے بارے میں بتایا جو ٹیئنز نے حاصل کیے۔

پین ہائپنگ، معروف ابلاغی شخصیت اور ڈپٹی جنرل مینیجر آفس آف جنرل مینیجر، سنہوا نیوز ایجنسی نے کہا کہ باؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس 2018ء کی افتتاحی تقریب نے ظاہر کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ نکلا تو چین سے ہے لیکن اس سے پیدا ہونے والے مواقع اور کامیابیاں دنیا بھر کے لیے ہیں۔

پین ہائپنگ مانتے ہیں کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں گہری شمولیت رکھنے والے چینی برانڈ کی حیثیت سے ٹیئنز گروپ چین کے “عالمی سطح پر جانے والے” اداروں میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔ ٹیئنز گروپ 1995ء میں قائم کیا گیا تھا اور یہ 1997ء میں بین الاقوامی مارکیٹ میں گیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو متعارف کروائے جانے کے بعد ٹیئنز گروپ نے فوری طور پر ردعمل دکھایا اور 37 ممالک اور خطوں میں نئی مارکیٹیں کھولیں جن میں امریکا، آسٹریلیا، فرانس، اٹلی، اسپین، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات اور فلپائنز شامل تھے۔ اس وقت ٹیئنز نے اپنے کاروبار کو دنیا کے 190 سے زیادہ ممالک اور خطوں تک پھیلا دیا ہے، 110 ممالک اور خطوں میں شاخیں قائم کردی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں غیر معمولی اداروں کے ساتھ تزویراتی اتحاد تشکیل دے چکا ہے۔ ٹیئنز نے چینی اداروں کے لیے کامیابی سے “عالمی سطح پر جانے” کے لیے ایک معیار مرتب کردیا ہے۔

کانفرنس کے موضوع اور روح کے مطابق کوئی سیاؤلن، ہیڈ ایڈیٹر ہفتہ وار چائنا اکنامک، پیپلز ڈیلی نے کہا کہ باؤ فورم برائے ایشیا سالانہ کانفرنس 2018ء چین کی میزبانی میں ہونے والی سال کی پہلی سفارتی سرگرمی ہے اور چینی رہنما اسے بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ ایک نیا نقطہ آغاز ہے کیونکہ کئی ممالک کے سربراہان اور عالمی کاروباری رہنما بھی شرکاء میں پچھلے سالوں سے کہیں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا کے نقطہ نگاہ سے چین پورے ایشیا کی جانب سے دنیا کا سامنا کر رہا ہے اور اس نئے عہد میں نئی بلندیوں کو پا چکا ہے۔

کوئی سیاؤلن مانتی ہیں کہ چین دنیا کا اقتصادی رہنما بن چکا ہے، خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ساتھ۔ چین نے اس راستے پر موجود ممالک کی ترقی کی قیادت کی، جس نے چین کی معیشت کو زبردست ترقی میں مدد دی۔ انہوں نے زور دیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ صرف کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی اکھاڑے میں چینی اداروں کے قدم رکھنے کے لیے نمائندگی کا بھی ہدف رکھتا ہے، جو دنیا کو چین کی شراکت داری دیکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں ٹیئنز کی شراکت داری اس کا ایک اور اشارہ ہے۔

ذریعہ: ٹیئنز گروپ

تصویری اٹیچمنٹ کے لنکس:
http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=310274

Comments are closed.

Scroll To Top