Home / General / ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نوبل کمیٹی کے خلاف حالیہ مقدمے اور جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ کی مسلسل تشہیر سے نبرد آزما

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نوبل کمیٹی کے خلاف حالیہ مقدمے اور جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ کی مسلسل تشہیر سے نبرد آزما

لاس اینجلس، 10 اکتوبر 2013ء/پی آرنیوزوائر/ –

“انسانی جسم کی تجدیدی بحالی کی سائنس” کے بانی اور صدر اوبامہ کے 2013ء کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اولین ترجیح کے حامل موضوع خراب ہونے والے اعضاء کی ازسرنو تخلیق کے پیٹنٹ دار ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نوبل کمیٹی اور اس کی جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ کی مسلسل غلط تشہیر کے خلاف جاری مقدمے کی جانب متوجہ ہیں جو گزشتہ سال ڈاکٹر سو نے ابتدائی طور پر اکیڈمی کے خلاف دائر کیا تھا جس میں دیگر دعووں کے علاوہ بدنامی اور بے جا مقابلے بازی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

گو کہ عضویات یا طب میں 2013ء کے انعام یافتگان کا اعلان رواں ہفتے کیا گیا لیکن نوبل اسمبلی نے اب تک طب کے لیے اپنے 2012ء انعام کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی بلکہ جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیوں کی مسلسل تصدیق اور غلط تشہیر کی جاتی رہی، اس لیے ڈاکٹر سو باہر نکلے اور عوام کو بتایا کہ انہوں نے 2012ء میں نوبل اسمبلی کے خلاف مقدمہ کیوں دائر کیا اور اس کی پیروی کیوں کی۔

8 اکتوبر 2012ء کو نوبل اسمبلی نے عضویات یا طب میں نوبل انعام شنیا یاماناکا اور انسانی جسمانی خلیات کی پلیوری پوٹنسی کو مصنوعی طور پر تخلیق کرنے کے لیے جوہری منتقلی کے ایک اور ماہر کو دیا۔ ایوارڈ کے خبری اعلامیہ اور تشہیری دستاویزی فلم میں نوبل اسمبلی نے واضح طور پر کہا کہ انعام یافتگان نے مورثوں کی ازسرنو پروگرامنگ کے ذریعے کامیابی سے جسمانی خلیات کو پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات میں تبدیل کیا۔ لیکن فاتح نے خود یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انہوں نے جسمانی خلیات (بافتوں کے خلیات) سے پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات تیار کیے ہیں۔ “اپنے بیان میں یاماناکا نے دعویٰ کیا کہ “میری موجودہ تحقیق کی توجہ جسمانی، یا جلدی، خلیات کی ری پروگرامنگ کے ذریعے جنینی اسٹیم خلیات سے مشابہت رکھنے والے خلیات تخلیق کرنے کے طریقوں پر ہے۔ مجھے بالغ جسمانی خلیات کو پلیوری پوٹنٹ خلیات میں ری پروگرام کرنے کی صلاحیت دریافت کرنے پر 2012ء میں عضویات یا طب کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔” دوسری جانب ڈاکٹر سو کی اعضاء کی ازسرنو تخلیق درخواست پیٹنٹ (US6991813) ظاہر کرتی ہے کہ انسانی جسمانی خلیات، تجدیدی غذائی اجسام کے ساتھ پرورش کرنے پر، صحیح حالت میں پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات میں تبدیل ہو سکتے ہیں (کیراتن 19 ایکسپریسنگ اسٹیم سیلز) اور عضویاتی خلیات اور اعضاء برمحل دوبارہ تخلیق ہو سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار انسانی استعمال میں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر سو نے واضح کیا کہ انسانی جسم میں جسمانی خلیات کو پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات میں تبدیل کرنے کے لیے دوبارہ تخلیق کی پیدائشی صلاحیت موجود ہوتی ہے؛ اس تجدیدی صلاحیت کو مصنوعی طور پر تخلیق کیا گیا ہے۔

Dr.%20Rongxiang%20Xu%2C%20inventor%20of%20Potential%20Regenerative%20Cell%20and%20Human%20Regenerative%20Life%20Science. ڈاکٹر رونگ سیانگ سو نوبل کمیٹی کے خلاف حالیہ مقدمے اور جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ کی مسلسل تشہیر سے نبرد آزما

Dr. Rongxiang Xu, inventor of “Potential Regenerative Cell” and “Human Regenerative Life Science.”

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20131009/LA94040)

3 دسمبر 2012ء کو ڈاکٹر سو نے اس کی غلط اور گمراہ کن رپورٹنگ کی وجہ سے نوبل اسمبلی پر مقدمہ دائر کیا کہ اس نے ڈاکٹر سو کی شہرت اور ان کے پیٹنٹ کی فروخت پذیری کو نقصان پہنچایا۔  ڈاکٹر سو نے علی الاعلان نوبل اسمبلی سے درخواست کی کہ وہ وضاحت کرے کہ پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات میں تبدیلی کے ذریعے انسانی تجدیدی صلاحیت پیدائشی ہے یا اسے نوبل انعام یافتہ نے مصنوعی طور پر تخلیق کیا۔ ڈاکٹر سو نے کہا کہ “کیونکہ یہ حیاتی سائنس کی صداقت کے حوالے سے ایک بنیادی مسئلہ ہے اور اس نقطے کو واضح کرنا چاہیے۔ یہ مقدمہ صرف میرے پیٹنٹ کی وجہ سے نہیں، بلکہ کی جانب سے انسانی تجدیدی صلاحیت کے بارے میں سچائی آشکار کرنے کے لیے بھی ہے۔ نوبل اسمبلی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے تقریباً ایک سال بعدبھی انہوں نے اس اہم سائنسی مسئلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔  اس کے بجائے انہوں نے مقدمے کو اسی علاقے کی ایک وفاقی عدالت میں منتقل کر کے معاملے کو طول دیا۔ دریں اثناء، انہوں نے جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کو متعارف کرنے کے موضوع پر ایک دستاویزی وڈیو جاری کی اور گمراہ کن معلومات کے مزید فروغ اسے ٹی وی پر پیش کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس عرصے میں میرے وکیل نے مجھے تصفیے کے امکانات کے لیے ملاقات کی خاطر نوبل اسمبلی کے خط کے بارے میں بتایا۔ گو کہ ہم تصفیے کو بھی آپشنز میں سے ایک رکھیں گے لیکن ہم نوبل اسمبلی سے وضاحت طلب کرکے اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں کہ آیا یاماناکا نے حقیقی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ یا جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ تخلیق کیا؛ ہمارا نوبل اسمبلی کی ساکھ کو گھٹانے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن مقدمہ دائر کرنا وہ واحد طریقہ تھا جو نوبل اسمبلی کو جواب دینے پر مجبور کر سکتا تھا۔”

8 مئی 2013ء کو عضویات یا طب میں 2012ء نوبل انعام جیتنے والوں میں سے ایک ڈاکٹر شنیا یاماناکا کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس کے لیے ان کا کہنا ہے کہ یاماناکا کی جانب سے ری پروگرامنگ طریقے کے ذریعے تخلیق کیا گیا خلیہ جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ ہے، جبکہ یاماناکا نے اسے اپنی تحقیق میں “انکلوڈڈ پلیوری پوٹنٹ اسٹیم سیل (iPSC)” کا نام دیا اور اصلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ کے نام اور کارگزاری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے جعلی پلیوری پوٹنٹ خلیے کی تشہیر کی، اور iPSC کے نام کے ساتھ دھوکہ دیا۔ اس لیے ڈاکٹر سو نے یاماناکا پر مقدمہ کیا اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے حق میں فیصلہ دے جو یاماناکا کو اپنے جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیہ کے لیے حقیقی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیے یا iPSC کی اصطلاحات کے استعمال سے روکے ۔ یاماناکا نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ “ایسا ہونے کی صورت میں یہ اعلانیہ اور امتناعی فیصلہ سائنس دانوں کی برادری میں میری ساکھ کو سخت نقصان پہنچائے گا، ہماری زندگی بچانے والی تحقیق کی جڑ کاٹ دے گا، اور اس تحقیق کے لیے ہماری فنڈنگ حاصل کرنے کی صلاحیت کو کمزور کردے گا۔ اگر مدعی کی درخواست کے حق میں عدالت نے فیصلہ دیا تو میری ساکھ، ملکیت دانش، تحقیق اور آمدنی کو پہنچانے والا نقصان بلاشبہ 75,000 ڈالر سے تجاوز کرجائے گا۔”

ڈاکٹر سو کے نقطہ نظر سے، پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کا نام استعمال کرکے نوبل اسمبلی اور ڈاکٹر یاماناکا دونوں جھوٹی تشہیر کے مرتکب ہیں۔ یہ کام انہوں نے بالترتیب انعام کی شہرت کو بہتر بنانے اور جعلی پلیوری پوٹنٹ اسٹیم خلیات کی شہرت سےفائدہ اٹھانے کے لیے کیا ۔ ڈاکٹر سو مسلسل قانونی مقدمات کے ذریعے مدعا علیہان کے جعلی تشہیر کے ارتکاب اور بے جا مقابلے بازی کی وضاحت کرنے میں ثابت قدم ہیں، چاہے وہ جہاں بھی ہوں اور کتنے ہی مفادات کے حامل گروہ اس میں ملوث ہوں، تاکہ سائنسی برادری کی صداقت اور حفاظت بحال ہو سکے۔

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو کے بارے میں

ڈاکٹر رونگ سیانگ سو “انسانی جسم کی تجدیدی بحالی کی سائنس” (HBRRS) کے بانی، معروف حیاتی و طبی سائنسدان اور ایچ بی آر آر ایس کی ذمہ دار کیلیفورنیا اور بیجنگ میں قائم ملکیت دانش مینجمنٹ کمپنی میبو انٹرنیشنل کے بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ ڈاکٹر سو چائنیز میڈیکل ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے قائمہ رکن، اور چائنیز برن ایسوسی ایشن آف دی انٹیگریشن آف ٹریڈیشنل اینڈ ویسٹرن میڈیسن کے اعزازی چیئرمین بھی ہیں۔

ڈاکٹر سو کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.mebo-international.com

رابطہ:

جین ویسٹ گیٹ: +1-336-209-9276، Jane@westgatecom.com

چیرل ریلے: +1-703-683-1798، cherylrileypr@comcast.net

Leave a Reply

Scroll To Top