Home / General / ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن سمٹ 2012ء : ابوظہبی ایجوکیشن کونسل حکومتوں، کاروباری اداروں، تعلیم و دیگر شعبوں کے عالمی رہنماؤں کی میزبانی کرے گی

ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن سمٹ 2012ء : ابوظہبی ایجوکیشن کونسل حکومتوں، کاروباری اداروں، تعلیم و دیگر شعبوں کے عالمی رہنماؤں کی میزبانی کرے گی

ابوظہبی، متحدہ عرب امارات، 17 اپریل 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

گورڈن براؤن کا کلیدی خطاب7 سے 9 مئی2012ء کو ہونے والی ایجوکیشن سمٹ کا افتتاح کرے گا

ابوظہبی ایجوکیشن کونسل (ADEC)  نے اعلان کیا ہے کہ وہ 7 سے 9 مئی 2012ء تک پہلی ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن سمٹ (TES) کی میزبانی کرے گی۔ ولی عہد ابوظہبی، متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر اور چیئرمین اے ڈی ای سی عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان کی زیر سرپرستی یہ کانفرنس دنیا بھر کے معروف حکومتی، کاروباری، تعلیمی اور سماجی رہنماؤں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے گی اور انہیں ان اسباق کو شیئر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم پیش کرے گی کہ تیزی سے تبدیل ہوتے عالمی معاشرے میں نوجوانوں پر زیادہ اثر انداز ہونے والی موزوں تعلیم کس طرح فراہم کی جائے ۔

اجلاس، جو امارات پیلس میں منعقد ہوگا، میں کلیدی مقررین کی ایک شاندار فہرست پیش کی جائے گی، جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، سابق صدر فن لینڈ تاریا ہیلونن، ملائیشیا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر تعلیم محی الدین یاسین، سابق آئرش وزیر تعلیم میری ہینافن، سی ای او مبادلہ خلدون خلیفہ المبارک اور تعلیمی تبدیلی کے معروف دانشور اینڈی ہرگریوز شامل ہوں گے۔ اس تقریب کے میرِ مجلس دوحہ ڈبیٹس کے معروف سہل کار اور بی بی سی کے سابق رپورٹر ٹم سباستین ہوں گے، اور دنیا بھر کے دیگر 30 سے زائد مقررین میں موجودہ و سابق وزراء، سی ای اوز، معروف تعلیمی ماہرین اور سماجی کارکنان شامل ہوں گے۔

مندوبین تعلیم کے لیے معاشرے کی ضروریات کے تعین، تبدیلی کے عمل کے انتظام کے لیے قائدین کے کردار، تعلیم کے لیے موثریت اور سرمایہ کاری، اور کلیدی اسٹیک ہولڈرز (حکومتی ادارے، تعلیمی ماہرین، طلبہ، والدین اور نجی و انسان دوستی کے شعبے) کو شامل کرنے جیسے موضوعات کا احاطہ کریں گے۔

ٹی ای ایس تعلیمی اصلاحات کے لیے ‘کیا’ سے زیادہ ‘کیسے’ پر زور دیتا ہے، جیساکہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ تبدیلی کی کئی کوششیں اپنے عمل ہی میں موجود چیلنجز کے باعث ناکام ہو جاتی ہیں۔

سیشنز مذاکروں اور معلومات کی شیئرنگ کی حوصلہ افزائی کریں گے، اور مضبوط انٹرایکٹو اجزا، کلیدی تقاریر اور پینل پریزنٹیشنز کو تھنک ٹیک مذاکروں  کے ساتھ ملائیں گے(برین اسٹورمنگ سیشنز جہاں سامعین اسٹیک ہولڈر گروپ کی جانب سے جدا کر دیے جائیں  گے)، اور ملک در ملک حالات پر بھروسہ کریں گے جس کے بعد سوالات و جوابات کا سیشن ہوگا۔ پیش کردہ مثالوں میں انتہائی ترقی یافتہ تعلیمی نظام یا تبدیلی کے سخت مراحل پر موجود نظام شامل ہوں گے۔

اے ڈی ای سی کے ڈائریکٹر جنرل عزت مآب ڈاکٹر مغیر خامس الخیلی نے ابوظہبی کے لیے اس تقریب کی اہمیت پر روشنی ڈالی: “ٹی ای ایس کا مقصد اس جانب متوجہ ہونا ہے کہ دنیا بھر میں معاشرے کے مختلف حصوں میں تعلیم کی تبدیلی کو کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس کے سب مندوبین ‘تبدیلی کے رہنما’ ہیں: وہ افراد جو ایسے عہدوں پر ہیں جہاں وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں تبدیلی کی قیادت کر سکتے ہیں، حکومت سے لے کر نجی شعبے تک۔ اجلاس کے ڈھائی ایام میں یہ رہنما معلومات اور حکمت عملیاں شیئر کریں گے اور عامۃ الناس کے فائدے کے لیے اپنے تعلیمی نظاموں میں بہترین مشقوں کے اشتراک کے ساتھ تجربات پیش کریں گے۔”

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ: “ابوظہبی اکنامک وژن 2030ء کے تناظر میں ایک معلوماتی معیشت تخلیق کرنے کے لیے ابوظہبی تعلیم کی تبدیلی میں مستقل دلچسپی کا حامل ہے۔  متحدہ عرب امارات، خلیج تعاون کونسل میں اپنے قریبی ممالک کی طرح، ‘آبادیاتی حصہ’ کا نتیجہ حاصل کرنے کا خواہا ں ہے اگر تعلیم میں ان تبدیلیوں کو مناسب انداز میں نافذ کیا جائے: کیونکہ 65 فیصد آبادی 25 سال سے کم عمر ہے، اے ڈی ای سی ابو ظہبی میں نوجوان افراد کی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے اور معاشرے کی غیر معمولی ترقی کا حصہ بننے کے لیے تقویت بخشنے کا اختیار رکھتی ہے۔”

اے ڈی ای سی ٹی ای ایس کی میزبانی انجمن اقتصادی تعاون و ترقی (OECD) کا نظامت تعلیم، معرف عالمی انتظامی مشاورتی ادارہ بوز اینڈ کمپنی، اور مبادلہ کا ٹیکنالوجی سرمایہ کاری شعبہ ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی انوسٹمنٹ کمپنی (ATIC) کی شراکت داری سے کرے گا۔

او ای سی ڈی میں نظامت تعلیم کے سربراہ برائے غیر-رکن ریاستیں این وٹمین نے کہا کہ “او ای سی ڈی تعلیم کے لیے ایک جامع طریقہ کار کو سہارا دینے سے وابستہ ہے جو معیشتوں کو اپنے تعلیمی نظاموں کے معیار، برابری، استعداد اور موثریت کو بہتر بنانے میں مدد دے۔” انہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ” ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن سمٹ بالکل برمحل ہے۔ او ای سی ڈی 21 ویں صدی کے لیے بہتر استعداد کار اور بہتر پالیسیوں کے لیے تصوراتی تبدیلیاں لانے کی جانب دنیا کی توجہ مرکوز کرانے کے اس کے مقصد ، اور ان تبدیلیوں کی کامیابی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کیمشترکہ ذمہ داری کا خیر مقدم اور بھرپور تائید کرتا ہے۔”

بوز اینڈ کمپنی کے سینئر نائب صدر رچرڈ شیڈیاک نے کہا کہ “تعلیمی رہنماؤں کو درپیش ضروری ترین سوال تعلیمی نظاموں کی اصلاح ہے تاکہ وہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی اقتصادی و محنت مارکیٹ ضروریات سے مطابقت اختیار کریں۔” انہوں نے مزید کہا کہ “تعلیمی رہنماؤں کو صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو انہیں تبدیلی کے نفاذ، تعلیمی ضروریات سے آگے سوچنے، اپنے اداروں میں تبدیلی لانے، اور معاشرے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی رہنمائی کرنے کی اجازت دے۔ ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن سمٹ ان قابلِ تغیر مسائل سے نمٹنے سے وابستہ ہے، اور بوز اینڈ کمپنی اجلاس کے شراکت دار کی حیثیت سے ابوظہبی ایجوکیشن کونسل کے ساتھ قوتیں مجتمع کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔”

بوز اینڈ کمپنی اس موضوع پر ایک ابتدائی رپورٹ تیار کر رہا ہے تعلیم میں قابل تغیر قیادت کی ضرورت: دیرپا تبدیلی کے لیے تین کلیدی صلاحیتیں۔ اجلاس کے بعد بوز اینڈ کمپنی اے ڈی ای سی کے ساتھ مل کر ایک بعد از اجلاس رپورٹ تیار کرے گا جو اجلاس کے مذاکروں سے حاصل کردہ معلومات اور سفارشات پر مرتب ہوگی، جسے شرکا اپنے ممالک میں تبدیلی پر اثر ہونے میں مدد کے لیے استعمال کریں گے۔

ایڈاونسڈ ٹیکنالوجی انوسٹمنٹ کمپنی (ATIC) کے سی ای او ابراہیم عجمی نے کہا کہ “ٹرانسفارمنگ ایجوکیشن سمٹ تعلیم اور خصوصاً تعلیمی اصلاحات کے شعبے سے دنیا کے چند قابلِ احترام ترین رہنماؤں سے سیکھنے کا بے مثال موقع ہے۔ اے ٹی آئی سی میں توجہ کا ایک مرکزی شعبہ اماراتیوں کی نئی نسل کو ٹیکنالوجی ماہرین کی حیثیت سے تعلیم فراہم کرنا ہے اور ہمیں اس تقریب میں اے ڈی ای سی کے شراکت داری داری پر خوشی ہے۔”

اے ٹی آئی سی شرکا کو 21 ویں صدی کا معلومات شیئر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پلیٹ فارم اور اِس تقریب کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کی گئی نیٹ ورکنگ فراہم کرے گا ۔ ایجنڈے کے اجزاء، افراد کے بارے میں معلومات اور سیشنز کے لیے مذاکروں کا مواد فوری طور پر بذریعہ ٹیبلٹس دستیاب ہوگا، جبکہ متحرک پیغام رسانی اور نیٹ ورکنگ خصوصیات شرکا کو پینل اراکین سے سوالات کرنے اور تقریب میں شریک دیگر رہنماؤں کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کرنے کی سہولت دے گا۔

ٹی ای ایس میں پیش کردہ کیس اسٹڈیز میں سے ایک ابوظہبی کی تبدیلی کے حوالے سے ہوگی۔ متحدہ عرب امارات میں تبدیل ہوتی معیشت، سماج اور انسانی سرمائے کی ضروریات کے بہتر سہارے کے لیے اے ڈی ای سی اسکول ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اولوالعزم پی-12 منصوبے، تدریس و تحقیق کے معیارات کو بلند، مدرسین کی نگرانی اور طلبہ کی جانچ کرنے کے لیے ابوظہبی کے تعلیمی نظام کی جامع نظرثانی شروع ہو چکی ہے،  جس کا مقصد بعد از ثانوی تعلیم اور افراد کار کی حیثیت سے طلبہ کو بہتر تیار کرنا ہے۔ اے ڈی ای سی کا نیو ماڈل (NSM) امارات کے 268 سرکاری اسکولوں میں، اساتذہ کی تربیت سے لے کر نصاب کے پروانے اور  بنیادی ڈھانچے اور تعلیم میں ٹیکنالوجی کے استعمال تک، تعلیم کی اصلاح کر چکا ہے۔ مزید برآں، اعلیٰ تعلیم کے شعبے اور نیم  سرکاری اداروں (جیسا کہ مبادلہ اور اے ٹی آئی سی) کے درمیان جامع تعاون بھی جاری ہے تاکہ موجودہ و مستقبل کی اجتماعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار انسانی سرمائے کو بنانے کے لیے کوششیں مجتمع کی جائیں۔

ٹی ای ایس مقامی و بین الاقوامی سطح پر تعلیمی نظام پر دیر پا اثرات مرتب کرنے کے لیے واضح نتائج کی فراہمی کا مقصد رکھتا ہے۔ اجلاس میں پیش کردہ تجربات کو ایک رپورٹ کے ذریعے حاصل کرنے اور پھیلانے کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والی اصلاحات سے حاصل کردہ اسباق کا تجزیہ جاری رکھنے کے لیے ورکنگ گروپس کا اجرا بھی کیا جائے گا۔

رواں سال بعد ازاں ابوظہبی میں ایک مقامی فورم بھی منظم کیا جائے گا تاکہ ٹی ای ایس کے ادراک کو متحدہ عرب امارات کے تعلیمی نظام کے اراکین، بشمول پرنسپلز، اساتذہ، والدین اور طلباء کے ساتھ شیئر کیا جائے۔

مزید معلومات کے لیے کانفرنس کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے: http://www.tes-abudhabi.org۔

رابطہ: گریگ فرے، greggfray@sevenmedia.ae، +971-50-8129566

ذریعہ: ابوظہبی ایجوکیشن کونسل

Leave a Reply

Scroll To Top