Home / General / معروف عالمی فوٹوگرافر لینارٹ نیلسن 90 سال کے ہو گئے

معروف عالمی فوٹوگرافر لینارٹ نیلسن 90 سال کے ہو گئے

6 جولائی 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

لینارٹ نیلسن 24 اگست کو 90 سال کے ہو گئے اور اب وہ بطور فوٹوجرنلسٹ ایک بے مثال کیریئر پر واپس نظر دوڑا سکتے ہیں۔ وہ کیمرہ تھامے معلم کی حیثیت سے انوکھی شخصیت ہیں ، اور انہیں “بیسویں صدی میں نشاۃ ثانیہ کے عہد کا آدمی” کہا گیا اور ان کا تقابل  عالمگیر جوہر قابل لیونارڈو ڈا ونچی کے ساتھ کیا گیا۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20120706/543210)

1960ء کی دہائی میں لینارٹ نیلسن نے لائف میگزین میں ملازمت اختیار کی تھی اور ‘بچہ کس طرح پیدا ہوتا ہے’ اس بارے میں ایک اسٹوری بنا کر سائنس اور فن کے درمیان سرحد پر اک نیا قدم اٹھایا۔

1965ء میں لائف کے سرورق کے لیے بنائی گئی یہ تصویر تاریخ میں سب سے زیادہ فروخت ہوئی اور ان کی کتاب اے چائلڈ از بورن اسی سال شایع ہوئی تھی، ایسی کتاب جو اب تک 20 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے (آخری ترجمہ چینی زبان میں)، اور اس کے پانچ ایڈیشن – 1965ء، 1976ء، 1990ء، 2003ء اور 2009ء- شایع ہو چکے ہیں اور لاکھوں نقول فروخت ہو چکی ہیں۔اور یہ سنسنی خیز کہانی “پیدائش سے پہلے زندگی کا ڈرامہ”، جس کا حصہ ہم سب رہے ہیں لیکن کسی کو بھی یاد نہیں ہے، لینارٹ نیلسن کی انسانی جسم اور زندگی کے معجزے کی انتھک تلاش کا صرف ایک آغاز تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے اپنے خیالات اور نئی ٹیکنالوجی – خصوصی طور پر تیار کردہ کیمرے، ننھے فائبر آپٹکس اور جدید مائیکرواسسکوپی – کے استعمال سے حیران کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔

لینارٹ نیلسن کی نامعلوم کی تلاش کا آغاز سویڈش دیہی علاقے میں ایک عام ٹیلے سے ہوا، اور یہ زیر آب مہم تک جاری رکھا، جس کا نتیجہ دو کتابوں –مائیرور اور لائف ان دی سی کی صورت میں نکلا جو دونوں 1959ء میں شایع ہوئیں۔

لینارٹ نیلسن کو سب سے بڑا چیلنج ناقابل بیان کو بیان کرنے اور نہ نظر آنے کو آشکار کرنے کے قابل بنانے پر ہوا – ان کے تازہ ترین کام میں وائرسز، ہوا میں موجود ذرات اور شہد کی مکھی کے پیٹ میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے بارے میں ہے۔ اور وہ عموماً کہتے ہیں کہ کامیابی کے لیے تین چیزیں ہوتی ہیں: صبر، صبر اور صبر-  وقت کی اہمیت نہیں، نتیجہ زیادہ اہم ہے! لینارٹ نیلسن قدرت کے عجائب کے بارے میں اتنے ہی متجسس ہیں جتنے 15 سال کی عمر میں تھےاور اپنی خریدی گئی نئی خوردبین (مائیکرواسکوپ) کے ذریعے خلیات پر پہلی نظر ڈالی تھی۔

لینارٹ نیلسن 1940ء اور 1950ء کی دہائی میں اپنی طرز کے بہترین پریس فوٹوگرافر تھے۔ 1945ء میں انہوں نے سویڈن کے پہاڑوں میں 1500 بچوں کی ولادت کروائی، ایسی کہانی جو ان کی پہلی ضرور تھی لیکن سمندر پار بڑے پیمانے پر اشاعت پانے والی آخری نہیں تھی۔

1947ء میں انہوں نے قطبی ریچھوں کے نارویجین شکار کی کہانی بتائی جو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی، اور “اشک اور کئی زبانوں میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔” اگلے سال لینارٹ نیلسن نے نو ہفتے فرانسیسی اور بیلجین کانگو میں خطرناک اور وحشیانہ نظارے دیکھنے کے لیے سفر میں گزارے۔ اور روم میں انہوں نے انگریڈ برگمان اور ان کی زندگی کی نئی محبت اطالوی ہدایت کار رابرٹو روزیلنی کے گھر کا دورہ کیا ۔ یہ سال 1950ء تھا اور اس رومان نے کئی سرخیوں میں جگہ پائی – یہ سب خوش کن نہیں تھیں، لیکن کئی اخبارات کی فروخت کا سبب بنیں۔ لینارٹ نیلسن نے 1953ء میں ہالینڈ میں زبردست سیلاب کی تباہ کاریوں کی ڈرامائی تصاویر بھی پیش کیں اور وہ اس سال وہیں تھےجب سویڈش سفارت کار ڈاک ہامرسکیولڈ کو اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ لینارٹ نیلسن کی عمدہ ترین اسٹورز میں سے ایک سالویشن آرمی کے بارے میں۔ کئی ماہ تک وہ “فوج محبت” کے سپاہیوں کا تعاقب کرتے رہے، اور دیگر مواقع کے علاوہ وہ عین اس وقت پر بھی موجود تھے جب ایک شرابی کو بچایا گیا تھا۔ تصاویر سویڈش اور غیر ملکی اخبارات میں بڑے پیمانے پر شایع ہوئیں – اور کتاب ہالے لویا میں بھی جو 1963ء شایع ہوئی تھی۔

لینارٹ نیلسن نے کئی افراد-معروف و غیر معروف دونوں-، شاہان، مصنفین، اداکاروں، سائنسدانوں اور معروف کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ مختلف کاموں کے سلسلے میں “عام افراد” کے پورٹریٹ فوٹوگراف بھی تیار کیے۔

وہ لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے اور ان سے قربت اختیار کرنے کے معاملے میں فطری صلاحیت کے حامل تھے۔ جب 1964ء میں نکیتا خروشیف نے سویڈن کا دورہ کیا تو ہارپ سونڈ میں عشائیے کی میز  پر ٹیگ ارلانڈر کے گرد سات لوگ بیٹھے تھے –بذات خود خصوصی مہمان کے علاوہ سویڈش وزیر اعظم، سوویت اور سویڈش وزیر برائے امور خارجہ، دو ترجمان اور لینارٹ نیلسن۔ انہیں ارلانڈر کے ایک پرانے دوست کی حیثیت سے متعارف کروایا گیا اور وہ سوویت آمر کے ساتھ ہونے والی مختصر بات چیت اور جام نوشی کے دوران صبح گئے تک موجود رہے۔ جب صحافی 1964ء میں پارلیمان کے ایوانون کے سامنے ارلانڈر کے “ولی عہد” کی تصاویر کھینچنے میں مصروف تھے، تو لینارٹ نیلسن اولوف پام کے ساتھ والنگ بائے میں ان کے گھر میں شفیق باپ اور ان کے فٹ کھیلتے بچوں کی تصاویر لے رہے تھے۔ اور جب انگمار برگمان فارو پر فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے تو لینارٹ نیلسن ہدایت کار اور ان کی پوری ٹیم کا گروپ فوٹو لینے میں کامیاب ہوئے۔ “شیم” کی شوٹنگ کے دوران برگمان کا تعاقب بالکل ایک کھیل کی طرح تھا – “آپ کو اپنی آنکھیں مرکوز اورکان ہر وقت کھلے رکھنے تھے، پہلے سے کچھ بھی طے شدہ نہیں تھا، صرف کلک کیجیے، دیکھئے اور سنیے۔”

 لینارٹ نیلسن کی طرح کوئی بھی فوٹوگرافر اپنی کہانیوں کے ذریعے ہمیں متحرک نہیں کر پایا۔ جب ٹی وی خبروں میں تصاویر دکھائی گئیں کہ ہمارے دانتوں پر کیا ہے – جو حقیقی حجم سے ایک لاکھ گنا بڑی کر کے دکھائی گئی تھیں– تو سویڈش عوام نے شام کی کافی کا خاتمہ کر دیا، اور اگلے روز تمام دکانوں پر ٹوتھ برشز ختم ہو گئے۔

ان کی تصاویر کرنسی نوٹوں اور سکوں پر بھی آئیں، نصابی کتب  اور دائرۃ المعارف میں بھی، اور چند اس وقت سیارہ زمین کی جانب سے خیرمقدم کے طور پر، ناسا کے خلائی کھوجیوں وویاجر I اور II کے ذریعے،  خلا میں اس وقت سفر کر رہی ہیں۔

فوٹوگرافر جن کا نعرہ ‘کچھ بھی ناممکن نہیں’ ہے کو اپنی فوٹوگرافک، صحافتی اور سائنسی کاوشوں کے لیے سالوں میں کی کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔

لینارٹ نیلسن ایک اعزازی ڈاکٹر ہیں، طب اور فلسفے دونوں میں، انہیں حکومت، رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز اور اسٹاک ہوم کے ٹی ایچ رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جانب سے پروفیسرکا خطاب دیا گیا اور سونے کے تمغے دیے گئے۔ وہ 1980ء میں ہاسل بلاڈ ایوارڈ کے حاصل کرنے والے پہلے فرد تھے، ماسٹر آف فوٹوگرافی کا خطاب بھی حاصل کر چکے ہیں اور ورلڈ پریس فوٹو اور اپنی فلموں کے لیے ٹی وی ورلڈ تین گریمی ایوارڈز کے تین اعزازات بھی پا چکے ہیں۔ اپنی 75 ویں سالگرہ کے عین موقع پر 1997ء میں “لینارٹ نیلسن ایوارڈ” کا اجرا کیا گیا، فوٹوگرافرز کے لیے ایک بین الاقوامی اعزاز جو لینارٹ نیسن کے جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

لینارٹ نیلسن کی فوٹوگرافی اسکین پکس سویڈن کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

ذریعہ: اسکین پکس سویڈن

پرلنڈسٹروم

ملحقہ پروفیسر فوٹوگرافی مڈسویڈن یونیورسٹی

رابطہ: لیناز ہیڈنسٹروم، +46-703033892، lina.hedenstrom@scanpix.se، یا images@scanpix.se

Leave a Reply

Scroll To Top