Home / Press Release / متحدہ عرب امارات کی جانب سے سفری پابندیوں کو مزید بڑھانے کی وجہ سے جنوبی ایشیائی شہری ملک واپسی نہیں آسکتے

متحدہ عرب امارات کی جانب سے سفری پابندیوں کو مزید بڑھانے کی وجہ سے جنوبی ایشیائی شہری ملک واپسی نہیں آسکتے

لندن ،13مئی ،2021/پی آر نیوز وائر/–متحدہ عرب امارات نے ملک میں داخلے پر پابندی کو مزید بڑھاکر اس فہرست میں پاکستان ،نیپال اور سری لنکا کو شامل کرلیا۔اس پابندی کا اطلاق 12مئی سے ہوا۔یہ اعلان متحدہ عرب امارات کی جانب سے COVIDکی بھارتی قسم کے پھیلاوٗ کو روکنے کے لیے بھارتی شہریوں کو ملک کے سفر پر پابندی کے بعد کیاگیا۔اگرچہ،اس پابندی میں طویل المدتی رہاشی ویزا)جیسے کہ گولڈن ویزا)والے اور سفارت کار نہیں ہوں گے۔جو لوگ یواےای کو اپنا گھر تصور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس ویزا یا شہریت نہیں ہے ،انھیں ان پابندیوں کے لیے متبادل انتظامات کرنے پڑیں گے۔

جب سے یو اے ای نے بھارت سے مسافروں کی آمد پر پابندی لگائی ہے،تب سے باہر پھنسے دولت مند افراد کی جانب سے نجی جہازوں کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھاگیاہے۔اگرچہ چارٹر فلائٹس موجود ہیں،لیکن ان میں 9 مسافروں کو لے جانے کی اجازت ہے اور اس کے لیے بھی متعلقہ محکمہ کو قبل ازوقت مسافروں کی تفصیلات بتائی جائیں گی۔یہ پابندی کب تک برقرار رہے گی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ،جس کی بناپر یو اے ای میں موجود کمپنیوں کو طویل المدتی ملازمت کے اپنے منصوبے کو بدلنا پڑ رہاہے،اور جنوبی ایشیا میں بھارت جیسے ممالک کی بجائے مقامی طور پر اہل افراد کی تلاش کرناہے۔

گزشتہ سال میں،وبا نے دنیا بھر میں بہت بڑے پیمانے پر غیر یقینی صورتحال پیداکی ہے۔اس کا مقابلہ کرنے کے لیے،بڑی آمدن والے افراد اور ان کے اہل خانہ نے اپنے معاشی اور جسمانی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دوہری شہریت میں بطور انشورنس بہت سرمایہ کاری کی ہے۔شہریت بذریعہ سرمایہ کاری پروگرام ،خصوصا،یہ حاصل کرنے کا ایک مشہور طریقہ کار بن چکاہے۔ا س کے ذریعے ،دولت مند سرمایہ کار دو سے تین ماہ میں حکومتی فنڈ یا چنے ہوئے رئیل اسٹیٹ میں خریداری کرکے مطلوبہ سرمایہ کاری کاہدف حاصل کرکے قانونی اور تاحیات شہری بن سکتے ہیں۔

سی ایس گلوبل پارٹنرز،لندن میں صدر مقام رکھنے والی ایک امیگریشن کمپنی ہے جو شہریت بذریعہ سرمایہ کاری میں کا م کرتی ہے،اس کمپنی نے وبا کے آغاز کے بعد درخواستوں کی وصولی میں اضافہ دیکھاہے۔سی ایس گلوبل پارٹنرز کے سی ای او میشا ایمٹ کا کہناتھا’’بہت سے دولت مند افراد کے لیے،یہ وبا پہلی مرتبہ ہے جب انھیں ایک ناگزیر پلان بی کی ضرورت کا احساس ہوا۔یہ نہ صرف اپنے اہل خانہ کی فوری حفاظت  کا معاملہ ہے لیکن اس کے ساتھ یہ یقینی بنانا ہے کہ معاشی طور ایک ہی چیز پر اکتفا نہ کیا جائے۔‘‘

سینٹ کٹس اور نیوس نے دنیا کا پہلا اور اب سب سے طویل المدتی سی بی آئی پروگرام 1984  میں متعارف کرایا۔تقریبا چار دہائیوں کے تجربے کے ساتھ،یہ پروگرام سرمایہ کار ہجرت کی صنعت میں ایک ’’پلاٹینم اسٹینڈرڈ‘‘برانڈ کی حیثیت سے جانا جاتاہے۔یہ نہ صرف ایک قابل اعتماد شے ہے،بلکہ دنیا بھر میں تیز ترین شہریت پروگراموں میں سے ایک ہے،جیسے کہ سی بی آئی انڈیکس 2020 میں دیکھایاگیاہے۔یہ یقینی بناتاہے کہ اس کے کام کرنے کا طریقہ کار مضبوط اور کثیر درجہ ہو،اور صرف ان کو قبول کیا جائے جن کے اخلاقی اقدار بہترین ہوں۔

جن سرمایہ کاروں نے سینٹ کٹس اور نیوس کا انتخاب کیا ہے وہ سسٹین ایبل گروتھ فنڈ کے ذریعے،ایک محدودمدت کی پیشکش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو چار افراد کے خاندان کو 195,000ڈالر کے بجائے150,000ڈالر کے عوض شہریت فراہم کرتاہے۔

07824029952
pr@csglobalpartners.com
www.csglobalpartners.com

Comments are closed.

Scroll To Top