Home / General / دہب شیل سی ای او: سماجی کارجوئی صومالیہ کی صلاحیتوں کو غیر مقفل کرنے کی کلید ہے

دہب شیل سی ای او: سماجی کارجوئی صومالیہ کی صلاحیتوں کو غیر مقفل کرنے کی کلید ہے

لندن، 21 فروری 2012ء/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

صومالیہ میں نجی شعبے کے سب سے بڑے آجر دہب شیل کے سی ای او نے عالمی برادری سے خطے میں سماجی کارجوئی کی صلاحیتوں کو غیر مقفل کرنے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ وہ اُن مسائل سے خود بحال ہو سکے جنہوں نے 20 سال سے زائد عرصے سے اسے جکڑا ہوا ہے۔

لندن صومالیہ کانفرنس سے قبل، جس کی صدارت برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کریں گے، افریقہ کے سب سے بڑے رقوم کی منتقلی کے کاروبار دہب شیل کے سی ای او ابورشید دویل نے کہا “صومالی قوی امید رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری خطے کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط منصوبہ بنائے گی۔”

“صومالیہ کی صلاحیتوں کو غیر مقفل کرنے کی کلید سماجی کارجوئی اور تعلیم کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ صومالی باشندوں کو خود تدریسی میں مدد دے گا کہ وہ کس طرح نئے کاروباری مواقع، ملازمتیں اور زیادہ تحفظ پذیر معیشت تخلیق کریں۔یہ عملی متبادل زد پذیر صومالی باشندوں خصوصاً نوجوان نسلوں کو قذاقی و دہشت گردی سے منسلک انتہا پسند گروپوں کی جانب سے رکھے گئے دباؤ سے محفوظ رکھیں گے۔

“جیسا کہ صومالی کہاوت ہے کہ ‘بدترین شخص وہ ہے جو تخم ریزی نہیں کرتی، مشورہ نہیں کرتا اور بچت نہیں کرتا’، جس کا مطلب ہے کہ ہماری مقامی برادریاں ان کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں جو اپنی اور دیگر لوگوں کی مدد کے لیے اپنا دماغ اور اثاثے استعمال کرتی ہیں۔”

دفتر خارجہ و دولت مشترکہ کے تحت منعقدہ کانفرنس میں 40 سے زائد حکومتیں اور بین الاقوامی انجمنیں شرکت کریں گی، جن میں اقوام متحدہ، افریقی اتحادی، یورپی اتحاد اور عالمی بینک شامل ہیں۔ صومالیہ کے عہدیداران، عبوری وفاقی حکومت (ٹی ایف جی) صومالی لینڈ، پنٹ لینڈ، گلموڈوگ اور اہل السنہ و الجماعہ کے صدور بھی حاضرین میں شامل ہیں۔

23 فروری کو لنکاسٹر ہاؤس میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد دہشت گردی، قذاقی، غذائی قلت اور خطے کو متاثر کرنے والے سیاسی خلا جیسے صومالیہ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے بین الاقوامی طریقے کے لیے وابستگی و تعاون فراہم کرنا ہے۔

حال ہی میں چیٹ ہیم ہاؤس میں صومالی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ کانفرنس “صومالی باشندوں کی ضروریات کو مقدم رکھتے ہوئے” ایک تاریخی موڑ ثابت ہوگی۔” ہیگ نے اس پر بھی زور دیا کہ پیش کردہ حلوں کی قیادت صومالیوں کے پاس ہونی چاہیے۔ “ہم صومالیہ کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں مدد دے سکتے ہیں – لیکن اس کے لیے خود نہیں دوڑ سکتے”، انہوں نے کہا۔

جناب دویل  نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ “کانفرنس ایسے مسائل سے نمٹتی ہے جو انتہائی سیاسی نوعیت کے ہیں، لیکن اگر صومالیہ کے خطے کو بحال کرنا ہے، تو اس کی کاروباری برادری – مقامی و بین الاقوامی دونوں- کو کسی بھی متفقہ منصوبے میں مرکزی حیثیت دیناہوگی۔ سمندر پار مقیم باشندوں کے کاروباروں نے صومالیہ میں نجی شعبے میں تجربہ اور سرمایہ کاری لینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

“وہ صومالی جن کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، جو خطے میں رہنے اور کام کرنے والے دیگر افراد کی نسبت کئی پیچیدہ مسائل کو براہ راست سمجھتے ہیں۔ تحفظ پذیر ترقی، استحکام اور موثر حکومت جستجو میں کثیر السطحی انجمنوں جیسا کہ افریقی اتحاد، اقوام متحدہ، یورپی اتحاد اور عالمی بینک کو ان متعدد گروپوں کو اپنی قوت کے حساب سے کردار ادا کرنے میں مدد دینے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔”

دہب شیل، جو اپنے تارکین وطن کی جانب صومالیہ کو بھیجے گئے 1.6 ارب ڈالرز کے بیشتر حصے کو سنبھالتا ہے، بین الاقوامی انجمنوں کے ساتھ شراکت داری، ترقیاتی منصوبوں کی مدد اور یہاں کام کرنے والی 95 فیصد این جی اوز کے لیے مالیاتی خدمات فراہم کرنے  کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ دہب شیل گروپ رقوم کی منتقلی، بینکاری اور ٹیلی کام کے شعبوں پر پھیلا ہوا ہے اور صرف صومالیہ میں علاقائی و قبائلی خطوط پر تقریباً 5 ہزار افراد کو ملازم رکھتا ہے۔

وسیع البنیاد کارپوریٹ سماجی ذمہ داری منصوبے کے حصے کے طور پر جو اس کے 5 فیصد سالانہ منافع سے سرمایہ کاری پاتا ہے، ادارہ مقدیشو میں مرکزی ہسپتال کو رقوم فراہم کرتا ہے اور قرن افریقہ میں صحت عامہ کے منصوبوں کا اہم ترین عطیات فراہم کنندہ ہے۔ گزشتہ سال کے قحط کے عروج کے موقع پر دہب شیل نے امدادی سرگرمیوں کے لیے 200,000 امریکی ڈالرز سے زائد عطیہ کیے اور دیگر کاروباری اداروں سے بھی انہی نقوشِ قدم پر چلنے کا مطالبہ کیا۔ ادارہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں حصہ ڈالتا ہے اور خطے بھر میں اسکولوں اور جامعات کے لیے نقد و ساز و سامان کے ذریعے باقاعدگی سے  عطیات دیتاہے۔

جناب دویل مانتے ہیں کہ کاروباری ترقی کے ساتھ ساتھ صومالی باشندوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اچھی تعلیم تک رسائی بھی رکھیں۔ انہوں نے کہا: “اب ھرجیسا میں دس جامعات ہیں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے کے بجائے صومالیہ کے علاقوں میں مزید تعلیم کے مواقع کا انتخاب کر رہی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم، بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر، شعبہ تعلیم میں جانفشانی کے ساتھ کوششیں کریں کیونکہ یہ ایک تحفظ پذیر معیشت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔”

یہ بات بہت تیزی سے تسلیم کی گئی ہے کہ صومالی نوجوان بیرون ملک اور خود اس خطے میں زبردست چیلنج کے نمائندہ ہیں۔ بین الاقوامی برادری پہلے ہی برطانیہ، مقدیشو اور ہر جگہ موجود محروم صومالی نوجوانوں کا ذمہ لینے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کر چکی ہے، جس میں نیم حکومتی سرمایہ کاری سے چلنے والی انجمنیں بشمول لندن  صومالی یوتھ فورم جو خاص طور پر متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکہ میں منیسوٹا بینک کے حالیہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے، جس نے امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ ہونے کے ڈر سے صومالیہ کو رقوم کی منتقلی روک دی، جناب دویل نے ان لوگوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا جو بقائے حیات کے لیے رقوم کی ترسیل پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا: “صومالی خطے کے لیے سالانہ رقوم کی ترسیل دنیا بھر کی پیش کردہ امداد سے بھی زیادہ ہے۔ تارکین وطن اور مقامی آبادی کے درمیان مالیاتی و انسانی وسائل کا بہاؤ تحفظ پذیر ترقی کے لیے اہم ہے، اور بین الاقوامی برادری کو صومالی باشندوں کو اپنی مدد آپ سے نہیں روکنا چاہیے، چاہے پیسے بھیجنے یا سفر کرنے کا معاملہ ہو۔”

قذاقی اور دہشت گردی کے بین الاقوامی اثرات پر عالمی ذرائع ابلاغ کی حالیہ توجہ کے بعد جناب دویل خطے میں روز مرہ کاروبار پر پڑنے والے اثرات کو نمایاں کرنے کے خواہاں ہیں۔

“قذاقی اور باغی گروہوں کا خطرہ کاروباری اخراجات میں اضافے، جیسا کہ ان خطوں میں کام کرنے والے اداروں کے لیے بیمہ اور شپنگ اور داخلی سیکورٹی ۔ صومالی حکومت میں مزید استحکام اور تسلسل کسی بھی طویل المیعاد حل کے لیے لازمی ہے۔ کانفرنس اس کے لیے ضرور بنیادیں ڈالے گی، کیونکہ اس وقت کاروبار مکمل طور پر حکومت کی مستقل تبدیل ہوتی ساخت اور موثر اختیار کی کمی کے رحم و کرم پر ہے۔”

مستقبل پر نظریں رکھتے ہوئے جناب دویل یقین رکھتے ہیں کہ تمام صومالی باشندوں کے لیے ایک روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی بہتر بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے میں مدد دے – اس حوالے سے انہوں نے سڑکوں اور ہسپتالوں کو سرمایہ کاری کے ضروری وسائل کی حیثیت  سے پیش کیا۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ صومالیہ اقوام متحدہ کی زیادہ شمولیت، بشمول نجی شعبے کے قریبی تعاون اور ترکی، مشرق وسطیٰ اور عرب لیگ کے دیگر اراکین کی زیادہ سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائے گا۔

جناب دویل نے بین الاقوامی عطیہ کنندگان کی جانب سے حالیہ امداد کا بھی خیرمقدم کیا لیکن کہا کہ انسانی بنیادوں پر امداد کی اب بھی ضرورت ہے۔

ذریعہ: دہب شیل

Leave a Reply

Scroll To Top