Home / General / اے ڈی ایل کا 100 سے زائد ممالک کا پول ظاہر کرتا ہے کہ ایک چوتھائی سے زائد جواب دینے والے یہودی مخالف جذبات رکھتے ہیں

اے ڈی ایل کا 100 سے زائد ممالک کا پول ظاہر کرتا ہے کہ ایک چوتھائی سے زائد جواب دینے والے یہودی مخالف جذبات رکھتے ہیں

– صرف 54 فیصد جواب دینے والوں نے ہولوکاسٹ کے بارے میں سن رکھا تھا

نیو یارک، 13 مئی 2014ء/پی آرنیوزوائر/ — اینٹی-ڈی فیمیشن لیگ (ADL) نے آج یہودی مخالف جذبات کے حوالے سے ایک غیر معمولی عالمی سروے کے نتائج ظاہر کردیے۔ اے ڈی ایل گلوبل100: یہودی مخالف اشاریے میں 102 ممالک کے 53,100 بالغ افراد کا سروے کیا گیا تاکہ پہلی بار دنیا بھر میں یہودی مخالف جذبات کی سطح اور شدت کے بارے میں اعدادوشمار کی بنیاد پر جامع تحقیقی سروے کیا جا سکے۔

سروے سے معلوم ہوا کہ یہودی مخالف جذبات دنیا بھر میں نفوذ کررہے ہیں۔ ہر چار میں سے ایک سے زیادہ بالغ افراد، سروے شدہ افراد میں سے 26 فیصد، میں پہلے ہی یہودی مخالف جذبات بری طرح سرایت کیے ہوئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار 1.09 ارب افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پول نے جانا کہ دنیا بھر میں ان میں سے صرف 54 فیصد افراد نے ہی ہولوکاسٹ کےبارے میں سن رکھا ہے۔ سروے میں ہر تین میں سے دو افراد نے یا تو ہولوکاسٹ کے بارے میں بالکل نہیں سن رکھا، یا پھر وہ اس کے تاریخی اعدادوشمار کو درست نہیں مانتے۔

مجموعی اے ڈی ایل گلوبل 100 انڈیکس اسکور جواب دینے والوں کے تناسب کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے یہودیوں کے بارے میں 11 منفی مفروضوں کے بارے میں چھ یا زیادہ کو “غالباً سچ” قرار دیا۔ 11 سوالوں کا اشاریہ گزشتہ 50 سالوں سے امریکہ میں یہودی مخالف رحجانات ناپنے کے لیے اے ڈی ایل کی جانب سے کلیدی معیار کی حیثیت سے استعمال کیا گیا۔

بھارت میں سروے نے جانا کہ 20 فیصد بالغ آبادی، تقریباً 150 ملین افراد، سخت یہودی مخالف جذبات رکھتے ہیں۔

اے ڈی ایل نیشنل ڈائریکٹر ابراہم ایچ فوکس مین نے کہا کہ “پہلی بار ہم نے حقیقی احساس پایا ہے کہ دنیا بھر میں یہودی مخالف جذبات کس حد تک سرایت پا چکے ہیں اور مستقل بنیادوں پر ہیں۔ اعدداوشمار ہمیں یہودی مخالف واقعات اور جذباتی تقاریر سے آگے اور دنیا بھر میں یہودی مخالف رویوں کے پھیلاؤ کا اندازہ لگانے میں مدد دیتےہیں۔ ہم اب اہم مقامات کو شناخت کرسکتے ہیں، اور ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک اور خطوں کو بھی کہ جہاں یہودیوں کے خلاف نفرت درحقیقت وجود ہی نہیں رکھتی۔”

انٹرایکٹو ویب سائٹ http://global100.adl.orgکے ذریعے دستیاب اے ڈی ایل گلوبل 100 انڈیکس محققین، طلباء، حکومتوں اور براہ راست عوامی رسائی کے حامل افراد کو یہودی مخالف رویوں کے بارے میں موجود اعدادوشمار تک براہ راست رسائی دے گا۔ سروے کم ترین یہودی مخالف جذبات (لاؤس 0.2 فیصد) سے لے کر سب سے زیادہ (مغربی کنارہ و غزہ، 93 فیصد) تک کے ممالک اور خطوں کو درجہ بندی دیتا ہے۔

چند انتہائی حوصلہ افزاء اشارے بھی ہیں۔ انگریزی بولنے والے اکثر ممالک میں یہودی مخالف رویے 13 فیصد ہیں، جو مجموعی اوسط سے کہیں کم ہیں۔ پروٹسٹنٹ اکثریت رکھنے والے ممالک میں یہودی مخالف جذبات دیگر مذہبی ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ اور دنیا بھر میں جواب دینے والے 28 فیصد افراد نے 11 یہودی مخالف مفروضوں میں سے کسی کو بھی “حقیقت” نہیں جانا۔

اے ڈی ایل نے فرسٹ انٹرنیشنل ریسورسز اور اینزالون لزسٹ گرو ریسرچ کو یہودیوں کے بارے میں رویوں کو جاننے کے لیے پولنگ کی خاطر اختیار دیا تھا۔  یہ اعدادوشمار جولائی 2013ء سے فروری 2014ء کے دوران 96 زبانوں اور لہجوں میں لینڈ لائن ٹیلی فونز، موبائل فونز اور بالمشافہ گفتگو سے جمع کیے گئے۔

جواب دینے والوں سے یہودیوں کے بارے میں قدیم مفروضوں کی بنیاد پر 11 سوالات کا مجموعہ پوچھا گیا، جس میں یہودیوں کی طاقت، وفاداری، پیسہ اور رویہ کے بارے میں مفروضے شامل تھے۔ جنہوں نے یہودیوں کے بارے میں چھ یا زیادہ منفی بیانات کا جواب اثبات میں دیا انہیں یہودی مخالف رویے کا حامل قرار دیا گیا۔ بیشتر ممالک کے لیے غلطی کی گنجائش، +/- 4.4 فیصد ہے جہاں 500 جواب دینے والوں کو منتخب کیا گیا۔ متعدد بڑے ممالک میں جہاں 1,000 انٹرویو کیے گئے، غلطی کی گنجائش +/- 3.2 فیصد ہے۔

اے ڈی ایل گلوبل انڈیکس: یہودی مخالف جذبات بلحاظ خطہ

یہودی مخالف رویوں کا سب سے زیادہ ارتکاز مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (“مینا”) میں پایا گیا، جہاں تقریباً تین چوتھائی جواب دینے والے، یعنی 74 فیصد، نے اکثر یہودی مخالف مفروضوں سے اتفاق کیا۔ اس خطے کے علاوہ دیگر ممالک میں اوسط انڈیکس اسکور 23 فیصد رہا۔

مینا سے باہر، بلحاظ خطہ انڈیکس اسکورز یہ رہے:

  • مشرقی یورپ: 34 فیصد
  • مغربی یورپ: 24 فیصد
  • نیم صحراوی افریقہ: 23 فیصد
  • ایشیا: 22 فیصد
  • امریکین: 19 فیصد
  • اوقیانوسیہ: 14 فیصد

اے ڈی ایل گلوبل 100 پر مزید معلومات، بشمول ملک بہ ملک تقابل، آن لائن http://global100.adl.orgپر دستیاب ہے۔

1913ء میں قائم ہونے والی اینٹی-ڈی فیمیشن لیگ نفرت، تعصب اور بدگمانی سے نمٹنے کے لیے پروگرام اور خدمات پیش کرکے یہودی مخالف جذبات کے خلاف لڑنے والی دنیا کی سب سے بڑی انجمن ہے۔

Leave a Reply

Scroll To Top