Home / General / ایس پی آئی ای ایف 2012ء نے کاروبار، مالیات، حکومت، ٹیکنالوجی اور ابلاغ کے 5 ہزار سے زائد سرفہرست عالمی رہنماؤں کو “قیادت جو کام کرتی ہو” کے عنوان تلے اکٹھا کیا

ایس پی آئی ای ایف 2012ء نے کاروبار، مالیات، حکومت، ٹیکنالوجی اور ابلاغ کے 5 ہزار سے زائد سرفہرست عالمی رہنماؤں کو “قیادت جو کام کرتی ہو” کے عنوان تلے اکٹھا کیا

سینٹ پیٹرزبرگ، روس، 2 جولائی 2012ء/پی آرنیوزوائر/–

تین صدور، دو وزرائے اعظم اور درجنوں اعلیٰ وزارتی عہدیداران، 75 سے زائد فورچیون 1000 اعلیٰ ایگزیکٹوز ، اور روس کی 400 سے زائد معروف کاروباری اور مالیاتی شخصیات 21 سے 23 جون تک ہونے والے سولہویں سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم میں جمع ہوئیں، جہاں انہوں نے “قیادت جو کام کرتی ہو”کے لیے درکار عناصر کے حوالے سے گفتگو، بات چیت اور رابطے کیے۔

ملٹی میڈیا نیوز ریلیز دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

http://multivu.prnewswire.com/mnr/prne/st-petersburg-international-economic-forum/56565

وفاقِ روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے افتتاحی خطاب کیا اور چار دیگر سربراہان مملکت نے رواں سال فورم میں شرکت کی: فن لینڈ کے صدر ساؤلی ننستو، جمہوریہ کرغزستان کے صدر المازبیک آتمبایف، مقدونیہ کے وزیر اعظم نکولا گریوسکی اور کینیا کے وزیر اعظم ریلا امولو اوڈنگا۔

وسیع محیط کے باضابطہ پروگرام میں جس نے عالمی رہنماؤں اور شرکا کو عالمی ایجنڈہ کو تشکیل دینے والے محیط کلیدی اقتصادی، سیاسی اور ٹیکنالوجی مسائل پر گفتگو پر زور دیا جو باضابطہ سیشنوں کے ایک سو سے زائد گھنٹوں، 28 پینل انٹرایکٹو تقاریر، 4 شعبہ جات ناشتوں اور ظہرانوں، 10 گول میز، 7 پریزنٹیشن اور دیگر تقریبات میں شرکت کر پائے جن میں مختلف ممالک کی سیاسی و کاروباری  شخصیات شریک رہیں۔ فورم بزنس پروگرام میں کل 77 تقریبات شامل تھیں (2011ء میں 63 سے زیادہ)۔

ایس پی آئی ای ایف 2012ء پروگرام کو چار کلیدی موادی ستونوں پر کھڑا کیا گیا تھا: مستقبل کا تحفظ، روس کی صلاحیتوں کا اندازہ، ٹیکنالوجیز پر اثر انداز ہونے کے  لیے جوابی کارروائی، قیادت نقطہ ارتکاز پر۔

روس اور دنیا کو درپیش کلیدی مسائل پر شرکا کے درمیان اتفاق رائے میں یورپی مالیاتی بحران، کلیدی معیشتوں میں قائدانہ تبدیلیوں، مشرق وسطیٰ میں سیاسی استحکام، توانائی کی قیمتوں میں عدم استحکام، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں سے آنے والی بڑھتی ہوئی طلب، تکنیکی جدت اور کاروبار اور حکومت پر ان کا اثر، توانائی کے شعبے میں کمرشل تعاون کے نئے پیمانے اور علاقائی اور عالمی ایجنڈوں کی تشکیل کے لیے ابھرتی ہوئی معیشتوں کا بڑھتا ہوا کردار شامل رہا۔

وفاقِ روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے اپنی اہم تقریر میں وسیع غیر ملکی اور مقامی ایجنڈے کا خاکہ کھینچا اور اشارہ دیا کہ مستقبل میں ان کا اہم مقصد ملک کی سیاسی معیشت کی بڑے پیمانے پر تبدیلی کا نفاذ ہے۔

حسب روایت گلوبل انرجی پرائز بھی دیا گیا، جس میں جیوری نے خلا کے لیے توانائی کے آلات میں ہونے والی پیشرفتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انعام کے حقدار بورس کاتورگن، ویلری کوستیوک اور برطانوی سائنس دان روڈنی جان ایلم رہے، اور 33 ملین روبل کا انعام تینوں میں یکساں تقسیم کیا گیا۔

ایس پی آئی ای ایف 2012ء نے رواں سال اپنی ٹیلیوائزڈ بحثوں کو توسیع دی، جس میں مقامی و بین الاقوامی نشریات کار شامل ہیں۔ رشیا ٹوڈے نے “یورپی دوراہا: بعد از بحران کے منظرنامے” کی شریک-پیش کاری کی اور ان کلیدی اقدامات پر گفتگو کی جنہیں یورو زون میں اعتماد مستحکم کرنے کے لیے اٹھانا چاہیے۔ سی این بی سی چینل کے تعاون سے کی گئی بحثوں کی توجہ “بینکاری 21 ویں صدی میں: نئے دور کے لیے نئے پیمانے”  کے موضوع جبکہ بلوم برگ کی توجہ “نئے ابھرتی ہوئی مالیاتی مراکز” پر رہی۔ سی این این نے “بی آر آئی سی مطالبے” پر بحث کی شریک میزبانی کی، جبکہ سائی شین میڈیا نے چین کے بدلتے ہوئے اقتصادی پیمانے، “ارتقا یا انتشار” پر بحث نشر کی۔ اور آخر میں رائٹرز ٹی وی نے سیشن “الفا کی شناخت” نامی سیشن میں ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں میں آنے والی تبدیلیوں پر ایک سیشن نشر کرنے میں مدد دی۔

ایس پی آئی ای ایف 2012ء بزنس پروگرام کے حصے کے طور پر “تبدیلی لانے کے لیے گفتگو” کے عنوان سے روبرو مذاکروں کا ایک سلسلہ پیش کیا گیا جس میں سیاست، کاروبار، مالیات اور ٹیکنالوجی سے وابستہ معتبر روسی و عالمی رہنماؤں نے شرکت کی مثلاً ہنری کسنجر، یوگنی پرائماکوف، جیرارڈ لوپیز، لائیڈ بلینک فائن، اولیگ دیری پسکا، اور دیگر۔

ایس پی آئی ای ایف 2012ء میں 360 ارب روبل مالیت کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، شرکا کی تعداد 5300 افراد سے تجاوز کر گئی

2012ء سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم معاہدوں اور ٹھیکوں کے لحاظ سے گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ ثمر آور ثابت ہوا۔ ایس پی آئی ایف 2012ء کے حصے کے طور پر کل 84 معاہدوں اور 9 ٹھیکوں پر دستخط کیے جن کی مشترکہ مالیت 360 ارب روبل سے زیادہ ہے، جبکہ 164.4 ارب روبل مالیت کے 4 قرضہ جاتی معاہدے بھی کیے گئے۔

روسی اور بین الاقوامی شرکا کے لحاظ سے ایس پی آئی ای ایف 2012ء متوازن رہا جس میں 1018 نمائندگان روسی کاروباروں اور 942 ایگزیکٹوز بین الاقوامی اداروں سے تعلق رکھتے تھے۔ باضابطہ فورم پروگرام کے شرکا میں بڑے کثیر القومی اداروں کے 157 سے زائد چیف ایگزیکٹو اور روسی اداروں کے 447 اعلیٰ ایگزیکٹوز موجود تھے۔ 2012ء میں 77 ممالک سے تعلق رکھنے والی 290 حکومتی شخصیات اور باضابطہ وفود کے نمائندگان نے شرکت کی۔

http://www.forumspb.com

ذریعہ: سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم

Leave a Reply

Scroll To Top