Home / General / میڈیا ٹیلی کانفرنس: اے ٹی ایف اے کی قیادت کی جانب سے نیواڈا میں ارجنٹائن منی لانڈرنگ سے اظہار لاتعلقی

میڈیا ٹیلی کانفرنس: اے ٹی ایف اے کی قیادت کی جانب سے نیواڈا میں ارجنٹائن منی لانڈرنگ سے اظہار لاتعلقی

– ماہر وکیل کی نیواڈا میں نئے  مقدمے پر گفتگو

واشنگٹن، 9 اپریل 2014ء/پی آرنیوزوائر/ — جمعرات 10 اپریل کو امریکن ٹاس فورس ارجنٹینا ایک پریس ٹیلی کانفرنس کرے گی۔ اس کا مقصد متعدد اہم معاملات میں ارجنٹائن حکومت کی عدم شفافیت پر تازہ اطلاع فراہم کرنا ہے، جس کا آغاز ارجنٹائن کی صدر کرسٹینا کرچنر کے قریبی اتحادی اور معتمد لازارا بیز کے حوالے سے ان تازہ خبروں سے ہوتا ہے کہ وہ چوری شدہ ریاستی فنڈز کو دھونے کے لیے ریاست نیواڈا کو استعمال کررہے ہیں۔

ATFA%20Logo. میڈیا ٹیلی کانفرنس: اے ٹی ایف اے کی قیادت کی جانب سے نیواڈا میں ارجنٹائن منی لانڈرنگ سے اظہار لاتعلقی

ATFA Logo.

لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20140409/DC02099LOGO

رواں ہفتے ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق اے ٹی ایف اے رکن این ایم ایل کیپٹل بیز کے ساتھ منسلک 123 اداروں کو مجبور کرنے کے لیے عدالتی حکم کی خواہش رکھتا ہے کہ یہ ادارے دستاویز پیش کریں جو ارجنٹائن حکومت کے چوری شدہ ریاستی اثاثوں کو ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرے۔بیز کےارجنٹینا  کی صدر کے ساتھ تعلقات مشہور ہیں۔ وہ اس وقت 65 ملین کے ریاستی فنڈز کی خردبرد اور نیواڈا اور دیگر مقامات پر اپنی کمپنیوں کے ذریعے ان رقوم کی ارجنٹینا  سے باہر منتقلی کی وجہ سے ارجنٹائن کے وکیلوں کی جانب سے زیر تفتیش ہیں۔ اگر بیز کو خردبرد کا مرتکب قرار دیا گیا، تو بازیافت کرائے گئے تمام چوری شدہ فنڈز ارجنٹائن کی حکومت کی ملکیت ہوں گے اور یوں این ایم ایل امریکی عدالتوں کو رقوم کی ادائیگی میں استعمال کرسکتا ہے۔

اے ٹی ایف اے کے چیئر رابٹ شاپیرو نے کہا کہ “ارجنٹینا نے اپنے اثاثہ جات کے تحفظ کے لیے ماہرانہ چالیں چلیں، اور عدالتوں نے اس ضمن میں اسے ‘بداعتمادی’ کے   عوامل کا مرتکب ٹھہرایا۔

اے ٹی ایف اے  کی شریک-چیئر نینسی سوڈربرگ نے رواں ہفتے کی خبروں کی جانب توجہ دلائی جنہوں نے ظاہر کیا کہ ارجنٹائن کے حکام واشنگٹن ڈی سی میں متعلقہ سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ ال کرونستا کہتے ہیں کہ وزیر اقتصادیات ایکسل کسلوف ان “کاروباری شخصیات سے ملاقات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جو ارجنٹائن میں کاروباری ادارے رکھتے ہیں یا جو ملک میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔”

سوڈربرگ نے کہا کہ “یہاں تک کہ ارجنٹائن نے امریکی اور دیگر غیر ملکی بانڈ حاملین کے ساتھ بیٹھنے سے بھی انکار کردیا، اور یہ امریکی ججوں کو بتاتا ہے کہ یہ عدالتی احکامات کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس رویے میں تبدیلی تک یہ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش نہیں ہوگا جسے مستحکم نمو کی ضرورت ہے۔”

**اٹارنی رابرٹ کوہن تحریک کے حوالے سے اور نیواڈا میں بیز کے خلاف مقدمے کے بارے میں کسی بھی قسم کے سوالات کے  جوابات دینے کےلیے مہمان کی حیثیت سے کال پر موجود رہیں گے۔

کیا: ارجنٹائن کی نیواڈا میں منی لانڈرنگ سرگرمیاں

کب: جمعرات، 10 اپریل، 2014ء۔ 2 بجکر 30 منٹ دوپہر، مشرقی وقت

کون: رابرٹ شاپیرو اور نینسی سوڈربرگ، شریک-چیئرز، امریکن ٹاسک فورس ارجنٹینا

خصوصی مہمان: رابرٹ کوہن، پارٹنر، ڈیچرٹ ایل ایل پی

مفت نمبرز: امریکہ /کینیڈا: 1-800-895-0231 یا +1-785-424-1054؛ ارجنٹینا: 0-800-666-0250؛ میکسیکو: 001-800-514-6145؛ برازیل: 0-800-891-6744

کانفرنس آئی ڈی: ATFA

(توجہ، اگر کوئی بین الاقوامی شریک اپنے ملک کے لیے بین الاقوامی مفت نمبر کے ذریعے کال تک رسائی حاصل نہیں کرپا رہا ہے تو براہ مہربانی ٹول (785) نمبر استعمال  کرکے ڈائل کریں)

ہدایت: آراء کی ضرورت۔ اپنی آراء media@atfa.orgپر ای میل کریں۔

رابرٹ کوہن ڈیچرٹ ایل ایل پی میں شراکت دار ہیں، اور ادارے کے عالمی بین الاقوامی تنازع حل کے شعبے کے شریک-سربراہ ہیں۔ وہ ادارے کی پالیسی کمیٹی میں متعدد بار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے 40 سے زیادہ سال کے تجربے میں قانون سازی (بشمول جیوری جانچ) اور بسا اوقات بین الاقوامی تناظر رکھنے والے پیچیدہ تجارتی تنازعات میں ثالثی اور وساطت  شامل ہیں۔ جناب کوہن بینچ مارک لٹی گیشن کی جانب سے باقاعدہ طور پر “لٹی گیشن اسٹار” قرار پائے ہیں، جن میں حال ہی میں قانونی، ملکیت دانش اور عام کمرشل قانون سازی کے معاملات میں قرار پانا شامل ہے۔

امریکن ٹاسک فورس ارجنٹینا کے بارے میں

امریکن ٹاسک فورس ارجنٹینا (ATFA) اداروں کا ایک اتحاد ہے جو2001ء میں ارجنٹائن حکومت کے قرض نادہندگی اور اس کے بعدوضع نو میں ٹھیک اور شفاف تجدید کے لیے متحد ہوئے۔ ہمارے اراکین قانون سازوں، ذرائع ابلاغ اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقین کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تاکہ امریکی حکومت کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ امریکی اسٹیک ہولڈرز کے مفادات میں ارجنٹائن حکومت کے ساتھ مذاکرات شدہ تصفیہ کی پوری قوت سے پیروی کرے۔

Leave a Reply

Scroll To Top